8 جولائی 2012 - 19:30

ٹوکيو ميں ، افغانستان کے بارے ميں ہونے والي بين الاقوامي کانفرنس افغانستان کو چار سال ميں سولہ ارب ڈالر کي مالي امداد دينے کا وعدہ کرکے اختتام کو پہنچي.

ابنا: دنيا کے اسي ملکوں کے اعلي عہديداروں اور عالمي تنظيموں کے نمائندوں نے افغانستان کي ترقي کے لئے سولہ ارب ڈالر کي رقم مختص کي ہے جو چار سال کي مدت ميں فراہم کي جائے گي-

يہ امداد افغانستان کےبنيادي ڈھانچے کو مضبوط بنانے  کے لئے غير فوجي ترقياتي کاموں پر خرچ کي جائے گي-

اگرچہ يہ امداد سن دوہزار چودہ ميں امريکہ اور نيٹو کے افغانستان سے چلے جانے کے بعد چار سال  کے لئے مختص کي گئي ہے ليکن کہا جارہا ہے کہ يہ امداد دوہزار پندرہ سے دوہزار چوبيس کے دوران افغانستان کے دس سالہ ترقياتي پروگرام کے لئے لازمي انفراسٹريکچر فراہم کرے گي-

ٹوکيو اجلاس سن دوہزار گيارہ کے بون اجلاس اور حال ہي  ميں ہونے والے شيکاگو اجلاس کے بعد ہوا ہے - سياسي ماہرين کا خيال ہے کہ افغانستان کے بارے ميں ٹوکيو اجلاس ميں  پچھلے اجلاسوں کے فيصلوں پر عملدرآمد اور  ان کے نتائج کے بارے ميں کوئي واضح رپورٹ سامنے نہيں آسکي ہے-

يہي وجہ ہے کہ افغانستان کے حکام شروع ہي سے بين الااقوامي امداد خرچ کئے جانے کے طريقہ کار کے  بارے ميں  شکايت کرتے چلے آئے ہيں اور انکا کہنا ہے کہ مغربي ممالک امدادي رقم صرف اور صرف افغانستان ميں کام کرنے والي اپني کمپنيوں کو ديتے ہيں اور يہ کمپنیاں حکومت افغانستان کي اقتصادي سماجي اور صحت عامہ سے متعلق ترجيحات کو  خاطر ميں لائے بغير خرچ کرديتي ہيں- اس کے معني يہ ہيں کہ افغان حکام کے بقول عالمي امداد کے اکثر  اخراجات پر انکي کوئي نگراني نہيں ہے-

يہي وجہ ہے کہ افغانستان پر قبض کو ايک عشرے سے زيادہ کا عرصہ گزر جانے اور متعدد عالمي اجلاسوں اور اربوں ڈالر مختص کئے جانے کے باوجود  افغانستان کو  لاتعداد اقتصادي ، سماجي اور اجتماعي مشکلات کا سامنا ہے-

  لہذا حکومت افغانستان نے ٹوکيو اجلاس ميں زراعت، فلاح وبہبود، اور صحت عامہ سميت مختلف شعبوں ميں بنيادي ڈھانچے کي تعمير نو کے لئے بائيس منصوبے پيش کئے ہيں-  افغان حکام کا خيال ہے کہ  ٹوکيو اجلاس ميں مختص کي جانے والي امداد کے ذريعے ملک کے اقتصادي ڈھانچے کي تقويت کرکے ملک کو اپنے پيروں پر کھڑا کرنے کي کوشش کريں گے-

افغانستان کے زرعي شعبے کو اس لحاظ سے اہميت حاصل ہے کہ تاحال اس ملک ميں پوست کي کاشت کو انتہائي اہميت حاصل ہے جو منشيات کي پيداوار ميں اہم کردار ادا کرتي ہے اور حکومت کي جانب سے متبادل کاشت کا پروگرام عملي جامہ نہيں پہن سکا ہے-

اس کي وجہ سے نہ صرف يہ کہ افغانستان کي معيشت  سنگين خطرات سے دوچار ہے بلکہ منشيات کي پيداوار اور اسمگلنگ  اس ملک ميں سرگرم دہشتگردوں کي آمدني کا ايک اہم ذريعہ شمار ہوتي ہے-

.......

/169